انسان جرم سے زیادہ اپنی مجبوری کا قیدی ہوتا ہے، مگر ضمیر اسے آخرکار واپسی کا راستہ دکھا دیتا ہے۔
|
بوٹا آج پھر اسی صبح کے بوجھل سائے کے ساتھ گھر سے نکلا تھا۔ نہ چہرے پر استرا تھا، نہ لباس میں ترتیب؛ جیسے زندگی نے اس کے اندر کی ترتیب بھی چھین لی ہو۔ وہ عام دنوں کی طرح پان والے کے کھوکھے سے گزرا، مگر آج قدم خود سے بھی آگے نکل گئے۔ وجہ صرف یہ تھی کہ کھوکھے پر بیٹھے دوستوں کی ہنسی اس کے وجود میں زہر گھول دیتی تھی۔ آج وہ ہنسی برداشت کرنے کے موڈ میں نہیں تھا۔
گھر میں شیداں کی آوازیں ابھی تک اس
کے کانوں میں گونج رہی تھیں۔ وہی شیداں… جس کے مطالبے وقت کے ساتھ بڑھتے گئے تھے،
اور بوٹے کی ہمتیں کم ہوتی گئی تھیں۔ کبھی بھوک، کبھی قرض، کبھی مجبوری—اور اب جرم
اس کی روزمرہ زبان بن چکا تھا۔
”یا اللہ… میں
کس دلدل میں دھنس گیا ہوں… “
وہ خود سے نہیں، اپنی تقدیر سے بات
کر رہا تھا۔
سینما ہال کے قریب پہنچ کر اس نے قدم
روک لیے۔ اس کی آنکھوں نے خود اس کے لباس کو شک کی نظر سے دیکھا۔ اسے لگا جیسے ہر
شخص اسے پڑھ رہا ہو—”یہ جیب کترا ہے۔ “
اور وہ مڑ گیا۔
ہسپتال کا راستہ اس نے چن لیا۔ دوست
شیدے کی تیمارداری کا خیال آیا۔ مگر جیب خالی تھی۔ اس کی خالی ہتھیلیاں جیسے اس کے
ضمیر کا مذاق اڑا رہی تھیں۔
راستے میں ایک بوڑھا سامنے
آیا—کمزور، لرزتا ہوا، جیسے عمر جسم سے پہلے ہار مان چکی ہو۔ ٹکر ہوئی، وہ گرا،
اور بوٹا لاشعوری طور پر جھکا…
اور وہیں کچھ ایسا ہوا جس نے اس کے ہاتھ کو اس کی عادت کے
حوالے کر دیا۔
چند لمحوں بعد وہ ہسپتال کے گیٹ سے
باہر تھا۔
نیشنل پارک کی خاموشی میں اس نے
رومال کھولا۔ نوٹوں کی گنتی اس کی آنکھوں کو یقین نہیں آنے دے رہی تھی—ایک لاکھ
پچاس ہزار۔
مگر ساتھ ایک خط بھی تھا۔
اس نے خط پڑھنا شروع کیا۔
”میرے بیٹے
سکندر کے نام “…
جملے بڑھتے گئے، اور بوٹے کے اندر
کچھ ٹوٹتا چلا گیا۔ ایک باپ… جس نے اپنی بیٹی کے لیے گردہ بیچ دیا تھا۔
اور وہ بوڑھا جس کی جیب وہ ابھی کاٹ آیا تھا… وہی اس
کہانی کا کردار تھا۔
اس کے ہاتھ کانپنے لگے۔
اور پہلی بار اسے لگا کہ جرم پیسے کا
نہیں، انسان کا ہوتا ہے۔
رات اس پر بھاری تھی۔ وہ سو نہیں
سکا۔ شیداں کی خواہشیں اب اس کے ذہن میں شور نہیں، لاش کی طرح پڑی تھیں۔ اس نے
فیصلہ کیا—وہ رقم واپس کرے گا۔
صبح فجر کی اذان اس کے اندر کسی
پرانی روشنی کی طرح اتری۔
وہ نکل پڑا۔
مگر محلے میں خبر پہلے پہنچ چکی
تھی—حاجی خیر دین انتقال کر گئے تھے۔
وہی بوڑھا… جس کی جیب وہ کاٹ آیا
تھا۔
دن جیسے اس کے اندر گر گیا۔
اب جرم صرف جیب کا نہیں رہا تھا، موت
کا بھی بن گیا تھا۔
اسی ادھوری کیفیت میں اس کی ملاقات
سکندر سے ہوئی—وہی استاد، وہی راستہ دکھانے والا چہرہ، جس نے اسے اندھیرے کے ہنر
سکھائے تھے۔ آج وہی شخص فخر سے نئے دھندے بتا رہا تھا۔
”میں نے جوا
خانہ بھی کھول لیا ہے… “
بوٹا خاموش تھا۔
اس کے اندر کوئی چراغ تھا جو اب
بجھنے کے بجائے جل رہا تھا۔
اس نے فیصلہ کیا—یہ رقم واپس نہیں
جائے گی۔
یہ رقم اب کسی جرم کی بنیاد نہیں بنے
گی۔
شاید کسی نیکی کا آغاز بن جائے۔
ـــــــــــــــــــــــــــــ
• تیمارداری:
بیمار کی دیکھ بھال کرنا
• دلدل: ایسی حالت جس سے نکلنا مشکل ہو
• ضمیر: اندر کی اخلاقی آواز
• ندامت: پچھتاوا
• ملامت: خود کو یا کسی کو برا کہنا
ہمارے ادبی سفر کا حصہ بنیں! اگر آپ کو یہ افسانہ پسند آیا ہے اور آپ آئندہ بھی ایسی تحریریں پڑھنا چاہتے ہیں، تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کر کے ہمارا واٹس ایپ چینل ضرور جوائن کریں: 🔗
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

اپنی قیمتی رائے کا اظہار کیجیے: